بغداد،19نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)موصل کو آزاد کرانے کے لیے 17اکتوبر کو شروع کیا جانے والا آپریشن دوسرے ماہ میں داخل ہو گیا ہے۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ عراقی فورسز نے جن کو امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی معاونت حاصل ہے اپنی تمام تر توجہ موصل کے مرکزی حصے کے محاصرے پر مرکوز کر رکھی ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں جاری جنگ کے دوران عراقی فورسز کو پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔موصل کے مشرقی حصے میں واقع علاقے التحریر میں جمعرات کے روز داعش تنظیم کی جانب سے متعدد کار بم دھماکے کیے گئے۔ یہ دھماکے شہریوں کے گھروں کے بیچ کھڑی گاڑیوں میں ہوئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک و زخمی ہو گئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی فورس کے ارکان نے زخمیوں کو قریبی طبی مراکز پہنچانے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
ادھر موصل شہر سے مقامی آبادی کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ عراقی ہلال احمر سوسائٹی نے جمعرات کے روز بتایا کہ موصل کی واپسی کے لیے جاری آپریشن کے آغاز سے اب تک 79ہزار سے زیادہ افراد شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ سوسائٹی کے مطابق تقریبا 1500شہریوں کو جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے ، جمعرات کے روز الخازر کے کیمپ منتقل کر دیا گیا۔ سوسائٹی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں نے اربیل صوبے میں ’’حسن شام‘‘اور’’الخازر‘‘کے کیمپوں میں پناہ لی ہے جب کہ دہوک صوبے میں ’’زیلکان‘‘اور نینوی صوبے میں’’الجدعہ‘‘کے کیمپوں نے تارکین کا استقبال کیا ہے۔